ڈھاکہ میں نواب سلیم اللہ خان، نواب محسن الملک اور نواب وقار الملک کی کوششوں سے مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا تاکہ مسلم مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ 1911ء میں تقسیمِ بنگال کی منسوخی نے مسلمانوں کو یہ باور کرایا کہ اپنے حقوق کے لیے سیاسی طاقت ناگزیر ہے۔
برطانوی حکومت نے تین وزراء پر مشتمل ایک مشن ہندوستان بھیجا۔ انہوں نے ہندوستان کو تین حصوں یا گروپس (A, B, C) میں تقسیم کرنے کی تجویز دی جس میں صوبوں کو وسیع خودمختاری حاصل تھی۔ مسلم لیگ نے اسے قبول کیا، لیکن کانگریس کے نہرو نے بعد میں اس کی تشریح بدلنے کی کوشش کی، جس پر قائدِ اعظم نے احتجاجاً اسے مسترد کر دیا اور 16 اگست 1946ء کو منایا۔
ہندوؤں نے اس تقسیم کے خلاف شدید احتجاج کیا، سودیشی تحریک شروع کی اور برطانوی سامان کا بائیکاٹ کیا۔
برصغیر کے آئینی مسائل کو حل کرنے کے لیے لندن میں تین گول میز کانفرنسیں منعقد کی گئیں، لیکن کانگریس کے اڑیل رویے کی وجہ سے کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہ نکل سکا۔ اسی دوران 1933ء میں چوہدری رحمت علی نے "اب یا کبھی نہیں" (Now or Never) کے عنوان سے پمفلٹ جاری کیا جس میں پہلی بار "پاکستان" کا نام تجویز کیا گیا۔
انہوں نے مسلمانوں کو سیاست سے دور رہ کر جدید تعلیم حاصل کرنے کا مشورہ دیا اور "دو قومی نظریہ" کی بنیاد رکھی۔ 3. اہم سیاسی سنگ میل (1905 - 1916) history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu
وائسرائے لارڈ کرزن نے انتظامی سہولت کے لیے بنگال کو دو حصوں (مشرقی اور مغربی بنگال) میں تقسیم کیا۔ مشرقی بنگال میں مسلمانوں کی اکثریت تھی، اس لیے یہ فیصلہ مسلمانوں کے لیے فائدہ مند تھا۔
مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی (علی برادران) نے اس تحریک کی قیادت کی۔ گاندھی نے بھی ہندوؤں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اس میں شمولیت اختیار کی۔
ڈھاکہ میں مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا تاکہ مسلمانوں کے سیاسی حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔ اس کے نتیجے میں 1909ء میں مسلمانوں کو "جداگانہ انتخاب" کا حق ملا۔
ایک ریٹائرڈ انگریز افسر اے او ہیوم نے کانگریس کی بنیاد رکھی۔ history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu
پاکستان کی تاریخ کے اس دور کے اہم واقعات میں 1857 کا بغاوت، کانگریس اور مسلم لیگ کا قیام، خلافت تحریک، غدر پارٹی، جلاےوالا باغ کا واقعہ، تحریک پاکستان، لاہور قرارداد، برطانوی راج کا خاتمہ، اور پاکستان کی آزادی شامل ہیں۔
یہ کہانی 1857 کی جنگِ آزادی سے شروع ہوتی ہے اور 1947 میں پاکستان
پہلی جنگِ عظیم میں ترکی کی شکست کے بعد خلافتِ عثمانیہ کے تحفظ کے لیے مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی نے یہ تحریک چلائی۔ گاندھی نے بھی اس کی حمایت کی، لیکن چوری چورا کے واقعے کے بعد گاندھی نے تحریک ختم کر دی، جس سے مسلم لیڈرشپ مایوس ہوئی۔
7۔ تحریکِ پاکستان کا حتمی مرحلہ (1940ء - 1947ء) history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu
موتی لال نہرو نے ایک آئینی مہرہ پیش کیا جس میں مسلمانوں کے جداگانہ انتخاب کے حق کو مسترد کر دیا گیا اور مسلم مفادات کو نظر انداز کیا گیا۔
تحریک خلافت کے دوران مسلمانوں نے اپنی ہمدردی کا اظہار کیا اور انگریزی اشیاء کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔ تاہم یہ تحریک بھی ناکام ہوئی اور ترکی میں خلافت ختم ہو گئی۔ اس ناکامی کے بعد ایک حصہ نے افغانستان کی طرف ہجرت کی جسے ہجرت تحریک کے نام سے یاد کیا جاتا ہے。
1857 کی جنگ، جسے انگریزوں نے “غدر” کا نام دیا، دراصل برصغیر کے عوام خصوصاً مسلمانوں کے لیے انگریزی تسلط کے خلاف پہلی بڑی مزاحمت تھی۔