Torah Holy Book In Urdu |work| Jun 2026

In the context of the Bible (Old Testament), the Torah refers to the first five books: Pentateuch in Urdu Language – Hardcover 2018 Edition

Focuses on the creation of the world, the story of Adam and Eve, and the lives of the early Patriarchs.

حضرت آدم اور حوا کا قصہ اور جنت سے زمین پر آمد۔

تاہم، اسلامی سکالرز اور علما کا یہ ماننا ہے کہ موجودہ دور میں پائی جانے والی تورات (جو بائبل کے عہدِ عتیق کا حصہ ہے) اپنی اصل حالت میں برقرار نہیں رہی۔ صدیوں کے دوران اس میں انسانی تصرف، تحریف (تبدیلی) اور تاریخی واقعات کا خلط ملط ہو چکا ہے۔ اس کے باوجود، موجودہ تورات میں اب بھی اخلاقی اسباق، خدا کی وحدانیت کے تذکرے اور انبیاء کرام کے قصص موجود ہیں جو اصل وحی کی جھلک پیش کرتے ہیں۔ torah holy book in urdu

اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں:

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے آخری خطبات اور قوانین کا اعادہ۔ اسلام اور تورات: ایک موازنہ

انٹرنیٹ پر کئی ویب سائٹس پی ڈی ایف فارمیٹ میں اردو بائبل (عہد نامہ قدیم) فراہم کرتی ہیں۔ In the context of the Bible (Old Testament),

ان مماثلتوں کے باوجود، تفصیلات اور عقائد کے معاملات میں قرآن اور موجودہ توراۃ میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔ قرآن ان واقعات کو شرک سے پاک اور انبیاء کی عصمت کے مطابق بیان کرتا ہے۔ خلاصہ

تورات، جسے عبرانی میں "پنج کتاب موسیٰ" (کتابِ احکام) کہا جاتا ہے، یہودیت کا سب سے بڑا اور بنیادی مذہبی متن ہے۔ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی، اور یہ تین عظیم آسمانی کتب (تورات، زبور، انجیل) میں پہلی کتاب ہے۔

: A comparative study by Dr. Muhammad Asif Hazaravi available on the Internet Archive Translations & Full Text Resources Urdu Geo Version : Provides PDF downloads for the Tauret (Pentateuch) the story of Adam and Eve

اس مضمون میں ہم تفصیل سے جانیں گے کہ توریت کیا ہے، اس کی تاریخ، اس کے مواد، اور اسلامی نقطہ نظر سے اس کی حیثیت کیا ہے۔ یہ مضمون خاص طور پر اُن اردو دان قارئین کے لیے تحریر کیا گیا ہے جو "Torah holy book in Urdu" کے بارے میں جامع معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

تورات عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی "تعلیم" یا "قانون" کے ہیں۔ اسلامی عقیدے کے مطابق یہ وہ پہلی بڑی الہامی کتاب ہے جو شریعتِ موسوی کے احکامات پر مشتمل تھی۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر تورات کا ذکر "ہدایت اور نور" کے طور پر کیا گیا ہے۔ اگرچہ اصل تورات اپنی حقیقی شکل میں موجود نہیں ہے، لیکن اس کے اخلاقی اور بنیادی عقائد آج بھی انسانیت کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔ اردو زبان میں تورات کے تراجم

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تورات کے بارے میں فرمایا کہ اسے نہ سچ کہو نہ جھوٹا، بلکہ یوں کہو کہ "ہم اللہ اور اس کی نازل کردہ کتابوں پر ایمان لائے ہیں"۔ علماء کا کہنا ہے کہ تورات کی وہ باتیں جو قرآن و سنت کے مطابق ہوں انہیں قبول کیا جائے گا، اور جو قرآن و سنت کے خلاف ہوں انہیں رد کر دیا جائے گا۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق اب تورات کی شریعت منسوخ ہو چکی ہے اور یہودیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسلام قبول کریں۔

تورات کو ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ وہ صحیفہ ہے جسے خدا نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا اور آج بھی یہ یہودی عقائد و عبادات کا سرچشمہ ہے۔